بھٹکل 27؍اپریل(ایس او نیوز) وزیراعلیٰ سدارامیا نے کانگریس صدر راہول گاندھی کے دورے کے موقع پر بھٹکل میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے شمالی کینرا، اڈپی اور منگلورو جیسے ساحلی اضلاع کو اپنی فرقہ پرستی کی لیباریٹری میں تبدیل کردیا ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر برائے اسکل ڈیولپمنٹ پر سیدھا نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ اننت کمار ہیگڈے جیسے ایک ایسے شخص کو مرکزی وزیر بنایا گیا ہے ، جس کے منھ میں لگاتار گٹر کا پانی بہتارہتا ہے۔ایسے شخص کا رکن پارلیمان بن جانا یہاں کے عوام کے لئے بدقسمتی کی بات ہے۔ دلتوں کو کتوں سے تشبیہہ دینا، ادیبوں کے ماں باپ کا پتہ نہ ہونے کی بات کہنے والا یہ شخص گرام پنچایت کا رکن ہونے کے بھی قابل نہیں ہے۔دستور تبدیل کرنے کی بات اس کا اپنا ذاتی نظریہ نہیں ہے۔ وہ تو بی جے پی کا خفیہ ایجنڈا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر اس شخص کو نکال باہر کرنے کے بجائے وزیر بناکر کیوں رکھا گیا ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ بی جے پی نے گائے کا گوشت کھانے کو ملک بھر کا بہت بڑا مسئلہ بناکر پیش کیا ہے اور عام لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
بی جے پی کے دور حکومت میں دلتوں، مسلمانوں اور پچھڑے طبقات کے لئے کوئی تحفظ نہیں ہے۔ عوامی مسائل کو حل کرنے اور اس پر جواب دہی کے بجائے دہشت گردی، جہادی جیسے عنوانات سے عوام کے درمیان دیواریں کھڑی کی جارہی ہیں۔
اذان کے احترام میں راہول نے روکی تقریر: کانگریسی صدر راہول گاندھی جب بھٹکل میں عوام سے مخاطب تھے ، تو پاس کی مسجد سے عشاء کی اذان سنائی دی۔ فوری ردعمل کے طور پر راہول گاندھی نے اپنی تقریر روک دی اور جاکر کرسی پر بیٹھ گئے۔ اذان ختم ہونے کے بعد دوبارہ اٹھ کر مائک پر آئے اور اپنی تقریر جاری رکھی۔